HTML SitemapExplore

Indus Queen — Attraction in Rajanpur Tehsil

Name
Indus Queen
Description
Nearby attractions
Nearby restaurants
Nearby hotels
Related posts
Keywords
Indus Queen tourism.Indus Queen hotels.Indus Queen bed and breakfast. flights to Indus Queen.Indus Queen attractions.Indus Queen restaurants.Indus Queen travel.Indus Queen travel guide.Indus Queen travel blog.Indus Queen pictures.Indus Queen photos.Indus Queen travel tips.Indus Queen maps.Indus Queen things to do.
Indus Queen things to do, attractions, restaurants, events info and trip planning
Indus Queen
PakistanPunjabRajanpur TehsilIndus Queen

Basic Info

Indus Queen

X93M+3RF, Kot Mithan, Pakistan
4.2(59)
Open 24 hours
Save
spot

Ratings & Description

Info

Cultural
Scenic
attractions: , restaurants:
logoLearn more insights from Wanderboat AI.

Plan your stay

hotel
Pet-friendly Hotels in Rajanpur Tehsil
Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.
hotel
Affordable Hotels in Rajanpur Tehsil
Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.
hotel
The Coolest Hotels You Haven't Heard Of (Yet)
Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.
hotel
Trending Stays Worth the Hype in Rajanpur Tehsil
Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.

Reviews

Get the Appoverlay
Get the AppOne tap to find yournext favorite spots!
Wanderboat LogoWanderboat

Your everyday Al companion for getaway ideas

CompanyAbout Us
InformationAI Trip PlannerSitemap
SocialXInstagramTiktokLinkedin
LegalTerms of ServicePrivacy Policy

Get the app

© 2025 Wanderboat. All rights reserved.

Posts

Rizwan YounasRizwan Younas
The Indian Queen is a largely unfinished semi-opera with music by Henry Purcell, first performed at the Theatre Royal, Drury Lane, London, in 1695. The exact date is unknown, but Peter Holman surmises it may have been in June. Wikipedia Composed: 1664 First performance: Theatre Royal Drury Lane, London, United Kingdom Adapted from: The Indian Queen Language: English Composers: Henry Purcell, Daniel Purcell Librettists: Henry Purcell, John Dryden
Imtiaz AliImtiaz Ali
It a wreck, forgotten just like the water of the river which no longer laps its rusted bow. We went to see it because it was built on the Clyde in Port Glasgow. It was gifted by the Newab Sadiq to the Wali in It end of life.
Zeeshan hereZeeshan here
کوٹ مٹھن راجن پور سے چاچڑاں جانے والی سڑک پر جائیں تو درمیان میں دریائے سندھ کو پار کرنے کے لئے کشتیوں کا عارضی پل آتا ہے۔اس پل کے نزدیک حفاظتی بند کے ساتھ سیلابی پانی اور کیچڑ میں دھنسا ہوا دیو ہیکل لوہے کا بحری جہاز نما ڈھانچہ نظر آتا ہے جس کے اوپر کچھ مٹے ہوئے لفظ پڑھے جا سکتے ہیں جس پر لکھا ہے 'انڈس کوئین' ۔انڈس کوئین سے کچھ فاصلے پر دو تباہ شدہ کشتیاں پڑی ہیں اور کچھ ہی فاصلے پر انگریز دور کا ایک سٹیمر بھی کیچڑ میں دھنسا ہوا۔یہ سٹیمر کسی دور میں غازی گھاٹ پر مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی کے درمیان مسافروں کو آر پار پہنچانے کا کام کرتا تھا۔
See more posts
See more posts
hotel
Find your stay

Pet-friendly Hotels in Rajanpur Tehsil

Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.

The Indian Queen is a largely unfinished semi-opera with music by Henry Purcell, first performed at the Theatre Royal, Drury Lane, London, in 1695. The exact date is unknown, but Peter Holman surmises it may have been in June. Wikipedia Composed: 1664 First performance: Theatre Royal Drury Lane, London, United Kingdom Adapted from: The Indian Queen Language: English Composers: Henry Purcell, Daniel Purcell Librettists: Henry Purcell, John Dryden
Rizwan Younas

Rizwan Younas

hotel
Find your stay

Affordable Hotels in Rajanpur Tehsil

Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.

Get the Appoverlay
Get the AppOne tap to find yournext favorite spots!
It a wreck, forgotten just like the water of the river which no longer laps its rusted bow. We went to see it because it was built on the Clyde in Port Glasgow. It was gifted by the Newab Sadiq to the Wali in It end of life.
Imtiaz Ali

Imtiaz Ali

hotel
Find your stay

The Coolest Hotels You Haven't Heard Of (Yet)

Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.

hotel
Find your stay

Trending Stays Worth the Hype in Rajanpur Tehsil

Find a cozy hotel nearby and make it a full experience.

کوٹ مٹھن راجن پور سے چاچڑاں جانے والی سڑک پر جائیں تو درمیان میں دریائے سندھ کو پار کرنے کے لئے کشتیوں کا عارضی پل آتا ہے۔اس پل کے نزدیک حفاظتی بند کے ساتھ سیلابی پانی اور کیچڑ میں دھنسا ہوا دیو ہیکل لوہے کا بحری جہاز نما ڈھانچہ نظر آتا ہے جس کے اوپر کچھ مٹے ہوئے لفظ پڑھے جا سکتے ہیں جس پر لکھا ہے 'انڈس کوئین' ۔انڈس کوئین سے کچھ فاصلے پر دو تباہ شدہ کشتیاں پڑی ہیں اور کچھ ہی فاصلے پر انگریز دور کا ایک سٹیمر بھی کیچڑ میں دھنسا ہوا۔یہ سٹیمر کسی دور میں غازی گھاٹ پر مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی کے درمیان مسافروں کو آر پار پہنچانے کا کام کرتا تھا۔
Zeeshan here

Zeeshan here

See more posts
See more posts

Reviews of Indus Queen

4.2
(59)
avatar
4.0
6y

ضلع راجن پور کے شہر کوٹ مٹھن سے اگر چاچڑاں شریف کی جانب جائیں تو بے نظیر برِج پر چڑھنے سے پہلے دائیں ہاتھ پر ایک کچا راستہ مڑتا ہے جہاں دریا پار کرنے کے لیئے ایک عارضی پل قائم تھا۔ اِس پُل کے نزدیک حفاظتی بند کے ساتھ ایک حیران کُن منظر آپ کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے یہاں ماضی میں کوئی بحری جنگ لڑی گئی ہو اور دشمن اپنے جہاز چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہو۔ یہاں آپ کو لہلہاتے اور سر سبز کھیتوں کے کنارے کیچڑ میں دھنسا ہوا ایک دیو ہیکل لوہے کا بحری جہاز نما ڈھانچہ نظر آئے گا، یہ "انڈس کوئین" ہے۔ سابقہ ریاست بہاول پور کا "ستلج کوئین" جس سے کچھ دور ایک سٹیمر اور دو کشتیاں بھی اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہیں۔

اس کی مکمل تاریخ کے لیئے ہمیں ماضی کا چکر لگانا ہو گا۔ برِصغیر میں جب برٹش راج قائم ہوا تو سندھ سے پنجاب تک پُختہ سڑک اور ریلوے لائن نہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے سامان و اجناس کی نقل وحمل کے لئے دریائے سندھ میں دُخانی جہاز متعارف کروائے، دریائے سندھ کی روانی کا فائدہ اٹھا کر اِن جہازوں کے ذریعے صوبہ سندھ اور پنجاب کے بیچ تجارت کو فروغ دیا گیا۔ حیدر آباد میں گدو بندر بھی دراصل دریائے سندھ پر موجود ایک بندر گاہ تھی جہاں ''انڈس فلوٹیلا کمپنی'' کے دُخانی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے- کراچی سے سامان حیدراباد کے گدو بندر بھجوایا جاتا جہاں سے اس سامان کو دخانی جہازوں میں لاد کر پنجاب اور لاہور تک پہنچایا جاتا-

ریلوے لائن بِچھانے کے بعد پہلا ریلوے انجن بھی کراچی سے حیدر آباد اور پھر وہاں سے انڈس فلوٹیلا شپ کے ذریعے لاہور پہنچایا گیا تھا۔ یہ دریائی سفر ایک سُست رفتار اور لمبا سفر تھا۔ کراچی بندر گاہ سے یہ سٹیم انجن پہلے دریائے سندھ کے مغرب میں واقع شہر کوٹری لے جایا گیا اور وہاں سے اسے انڈس فلوٹیلا کمپنی کی کشتی پر منتقل کر دیا گیا جس نے اسے لاہور تک پہنچانا تھا۔

دریائے سندھ اور دریائے چناب سے ہوتے ہوئے یہ کشتی 34 روز میں ملتان پہنچی۔ ملتان سے لاہور تک کا سفر کچھ جلدی طے ہوگیا اور بالآخر وہ دن آگیا جس کا لاہور کے باسیوں کو شِدت سے انتظار تھا۔ کشتی دریائے راوی کی لہروں پر سوار لاہور میں داخل ہوئی۔ لاہور میں دریائے راوی کے کنارے پر کشتی سے اس ریلوے انجن کو اتارا گیا اور اسے شہر (چوبرجی کے مقام پر) میں لایا گیا جہاں معززینِ شہر اور عوام کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ لاہور میں یہ انجن بیل گاڑیوں کی مدد سے گھسیٹ کر ریلوے اسٹیشن تک پہنچایا گیا تھا۔

لگ بھگ اسی دور میں دریائے سندھ کے بڑے معاون دریا ستلُج میں بھی ایک عظیم الجُثہ بحری جہاز کا راج تھا ۔ یہ ریاست بہاولپور کے نواب کا ستلج کوئین تھا۔ ستلج کوئین نواب آف بہاولپور نواب صادق خان عباسی پنجم کی ملکیت تھا جسے لگ بھگ 1867 میں بنایا گیا تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیئے گئے جس کے تحت تین دریا ستلج ، بیاس اور راوی بھارت کے حوالے کر دیئے گئے تو ستلج کی گود سونی ہو گئی ۔ ادھر ریاستِ بہاولپور کے پاکستان میں ضم ہونے کے بعد نواب صادق خان عباسی نے پانی میں چلنے والا یہ جہاز ’’ستلج کوئین‘‘ حکومت پاکستان کو دے دیا۔ ستلج کوئین کو حکومت پاکستان نے ''غازی گھاٹ'' پر منتقل کیا اور اسے ڈیرہ غازی خان اور مُظفر گڑھ کے بیچ دریائے سندھ میں چلانا شروع کر دیا۔

سِندھو ندی میں آنے کے بعد یہ ستلج سے ''انڈس کوئین'' ہو گیا۔ غازی گھاٹ کے مقام پر پانی کے تیز بہاؤ کے پیشِ نظر انڈس کوئین کو 1996ء میں کوٹ مٹھن منتقل کر دیا گیا جہاں یہ مِٹھن کوٹ سے چاچڑاں کے درمیان پوری شان و شوکت سے چلتا رہا حتیٰ کہ 1996ء میں ہائی وے ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی عدم توجہی کا شکار ہو کر چلنے کے قابل نہ رہا اور تب سے لے کر اب تک دریائے سندھ کے کناروں سے بھی دور میدانوں میں پڑا ہے۔

مقامی افراد کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ وہ جہاز ہے جِسے نواب آف بہاول پور، نواب صُبحِ صادق نے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کو تحفہ میں دیا تھا۔ فرید کی نگری (کوٹ مٹھن) اور چاچڑاں شریف کے درمیان ٹھاٹھیں مارتا دریائے سندھ بہتا ہے جس کی وجہ سے خواجہ صاحبؒ سے ملاقات کرنے والے مریدین کو دشواری پیدا ہوتی تھی اور خواجہ صاحبؒ کو بھی چِلہ کشی کے لیئے روہی (چولستان) جانا پڑتا تھا اس لیے نواب آف بہاول پور نے یہ بحری جہاز خواجہ صاحبؒ کو تحفتاً دے دیا تھا جو کافی عرصہ استعمال میں رہا۔ اس جہاز نے اپنا آخری سفر 1996 میں کیا۔

اس جہاز کے تین حصے تھے۔ نیچے والے حصے میں انجن، جنریٹر اور اوپر ملازمین کے کمرے تھے۔ درمیانی حصہ مسافروں کے بیٹھنے کے لیے تھا، ایک حصہ عورتوں اور ایک مردوں کے لیے مختص تھا۔ درمیانی حصہ کے اوپر لوہے کی چادر کا شیڈ بنا ہوا ہے، اور شیڈ کے اوپر سب سے اوپر والے حصہ میں مسافروں کے لیے ایک چھوٹی سی مسجد اور سامنے والے حصہ میں بالکل آگے کپتان کا کمرہ...

   Read more
avatar
5.0
3y

Indus Queen

In 1867, the ship named Malika Sindh (Indus Queen) was completed in Great Britain. This three-story ship was a proper ship with galleys for about four hundred passengers on board and catering. Nawab of Bahawalpur bought this ship and added it to his inheritance. Later in 1917, Nawab Subhan dedicated the Indus Queen to ease the river travel of the devotees and followers visiting the shrine of Sufi poet Khwaja Ghulam Farid Korijah of Kot Mithan.

After the partition of India, this ship remained under the supervision of the Nawab of Bahawalpur for some time, then after the establishment of one unit, this ship went under the supervision of the Highways Department. That is, this is where his bad luck started. The Indus Queen drifted away from the river over time and all attempts to shore it up failed.

According to a report, claims were made in 2012 and 2017 for the official refit and restoration of the Indus Queen, but later the process was halted only to have it transported to the Karachi Shipyard and repaired. Doing so would cost up to two new ships.

According to local residents, valuables including fittings and fixtures are disappearing from Indus Queen every day. As for the engine, no one knows when it was removed.

This boat will be suitable for you to travel and have fun.

Mubasher Rahman 13...

   Read more
avatar
5.0
4y

#ضلع #راجن #پور ،#کوٹ #مٹھن ضلع راجن پور کے شہر کوٹ مٹھن سے اگر چاچڑاں شریف ( خان پور) کی جانب جائیں تو بے نظیر برِج پر چڑھنے سے پہلے دائیں ہاتھ پر ایک کچا راستہ مڑتا ہے جہاں دریا پار کرنے کے لیئے ایک عارضی پل قائم تھا۔ اِس پُل کے نزدیک حفاظتی بند کے ساتھ ایک حیران کُن منظر آپ کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔ اسکی مثال ایسے ہے جیسے یہاں ماضی میں کوئی بحری جنگ لڑی گئی ہو اور دشمن اپنے جہاز چھوڑ کہ بھاگ کھڑا ہو۔ یہاں آپ کو لہلہاتے اور سر سبز کھیتوں کے کنارے کیچڑ میں دھنسا ہوا ایک دیو ہیکل لوہے کا بحری جہاز نما ڈھانچہ نظر آئے گا، یہ انڈس کوئین ہے۔ سابقہ ریاست بہاولپور کا ستلج کوئین ۔ جس سے کچھ دور ایک سٹیمر اور دو کشتیاں بھی اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہیں۔ اس کی مکمل تاریخ کے لیئے ہمیں ماضی کا چکر لگانا ہو گا۔ برِصغیر میں جب برٹش راج قائم ہوا تو سندھ سے پنجاب تک پُختہ سڑک اور ریلوے لائن نہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے سامان واجناس کی نقل وحمل کے لئے دریائے سندھ میں دُخانی جہاز متعارف کروائے- دریائے سندھ کی روانی کا فائدہ اٹھا کر اِن جہازوں کے ذریعے صوبہ سندھ اور پنجاب کے بیچ تجارت کو فروغ دیا گیا۔ حیدرآباد میں گدو بندر بھی دراصل دریائے سندھ پر موجود ایک بندر گاہ تھی جہاں ''انڈس فلوٹیلا کمپنی'' کے دُخانی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے- کراچی سے سامان حیدراباد کے گدو بندر بھجوایا جاتا جہاں سے اس سامان کو دخانی جہازوں میں لاد کر پنجاب اور لاہور تک پہنچایا جاتا- ریلوے لائن بِچھانے کے بعد پہلا ریلوے انجن بھی کراچی سے حیدراباد اور پھر وہاں سے انڈس فلوٹیلا شپ کے ذریعے لاہور پہنچایا گیا تھا۔ یہ دریائی سفر ایک سُست رفتار اور لمبا سفر تھا۔ کراچی بندرگاہ سے یہ سٹیم انجن پہلے دریائے سندھ کے مغرب میں واقع شہر کوٹری لے جایا گیا اور وہاں سے اسے انڈس فلوٹیلا کمپنی کی کشتی پر منتقل کر دیا گیا جس نے اسے لاہور تک...

   Read more
Page 1 of 7
Previous
Next