ملکہ پربت (Malika Parbat)، فارسی/اردو میں "Queen of the Mountains"، پاکستان کے خوبصورت ترین اور سب سے چیلنجنگ پہاڑوں میں سے ایک ہے۔
🏔 مقام و بلندی
یہ پہاڑ خیبر پختونخوا کے کاغان ویلی میں واقع ہے، اور بلندی 5,290 میٹر (17,360 فٹ) ہے—یہ کاغان و وادی ہزارہ کا سب سے بلند مقام ہے ۔
جھیل سیف الملوک سے تقریباً 6 کلومیٹر جنوب میں اور "آنسو لیک" کے قریب واقع ہے ۔
🧭 چوٹیوں کی ترتیب و راستے
اس پہاڑ کی تین مشہور چوٹیاں ہیں: شمالی چوٹی (North Peak)، Cresta، اور جنوبی چوٹی (South Peak) ۔
رسائی:
ناران → سیف الملوک راستہ،
یا بٹاکنڈی → داد ار چوٹی گلیشئر کے ذریعے ۔
🧗♂️ چڑھائی کی تاریخ
1920: کیپٹن B.W. بٹی اور چار گورکھا سپاہیوں نے شمالی چوٹی پہلی بار سر کی ۔
1967: ٹریور براہم، نارمن نوریس اور جین وائٹ نے دوسری مرتبہ بالا کیا ۔
1998: دو پاکستانی کوہ پیماؤں—رشیڈ بٹ اور عمر عزیز نے جنوبی چوٹی سر کی؛ افسوسناک طور پر رشیڈ بٹ نیچے آتے ہوئے پُر جان ہوئے ۔
2012: عمران جنیدی (پاکستان) اور جینس سیمنسن (ڈنمارک) نے شمالی چوٹی پہلی پاکستانی-Danish جوائنٹ مہم میں سر کی؛ یہ عمران جنیدی کے لیے شمالی چوٹی سر کرنے کا پہلا ریکارڈ تھا ۔
اسی سال ایک اور پاکستانی مہم (احمد مجتبیٰ علی و دیگر) نے کامیابی حاصل کی ۔
شمالی چوٹی پر صرف آٹھ سے بارہ افراد نے کامیابی حاصل کی—اس کے بعد کی محض اطلاعات کم دست یاب ہیں ۔
⚠️ چڑھائی کی نوعیت
تکنیکی اعتبار سے یہ پہاڑ بہت مشکل سمجھا جاتا ہے، جس میں برف، چٹان، گلیشئرز اور تیز ڈھلوان شامل ہیں ۔
عام سیاحوں کے لیے یہ بالکل مناسب نہیں—منصّب اور تجربہ کار کوہ پیماؤں کی ضرورت ہوتی ہے ۔
🌿 سیاحتی اور ثقافتی اہمیت
جھیل سیف الملوک اور آنسو لیک کے ساتھ یہ کاغان وادی کا ایک اہم قدرتی نشانی ہے ۔
اس کی منفرد جمالیات اور چیلنجنگ چوٹیاں تجربہ کار کوہ پیماؤں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، جبکہ مقامی لوگوں میں اس کے خلاف "سپرنیچرل" خوف بھی پایا جاتا ہے ۔
عمران جنیدی اور ڈنمارک کے تعلقات کی کہانی نے اس پہاڑ کو سفارتی دوستداری کی علامت بھی بنا دیا ۔
🗓 بہترین وقت برائے چڑھائی
موسم بہار سے...
Read moreپر فضا پرکشش دلکش قدرتی حسن سے مالا مال حسین وادیوں میں گھرا ہوا شمالی علاقہ جات پر اسرار اور ایک پاکستانی فوجی جوان کے مشاہدہ کیمطابق اس پہاڑ کے دامن میں اور گردونواح کے علاقوں میں خلائی مخلوق اور قوم جنات رہائش پذیر ہے جو میں پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے دوران میرا اس غیر مرئی قوتوں سے واسطہ پڑا ہے جو جو پاکستان کے شمال مشرقی سرحد کے قریب ہے جس کے مشرق میں ملک ہندوستان واقع ہے اور شمال کی طرف ہمارا دوست ملک چین کی سرحد لگتی ہے ملک پاکستان میں ملکہ پربت پر سارا سال برف جمی ہوئی رہتی ہے اس پراسرار اور برف پوش چوٹیوں پر جانے کے لیے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے مانسہرہ سے ناران روڈ سے براستہ بالاکوٹ سے کیوائی آبشار سے گزرتے ہوئے 10/12 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خوبصورت دلکش قدرتی مناظر سے بھرپور گاؤں پارس ہے جو کہ انتہائی دلکش اور خوبصورت جنت نظیر قدرتی وادی کاغان کا حصہ ہے جہاں پر دریائے کنہار بڑی اونچی آواز میں نغمہ سراء ہے ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑی آب و تاب سے رواں دواں ہے اور پاک چائنہ سی پیک کے منصوبے کے تحت سکی کناری ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ کی جھیل کا بھت بڑا بند تعمیر کیا جائے گا اور ڈیم کا سپل وے بھی پارس میں بنایا جائے گا جس سے 870 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی سے گزر کر جرائد گاؤں سے کاغان شہر سے ناران شہر سے بذریعہ جیپ مشرق کی جانب کچے راستے پر جھیل سیف الملوک واقع ہے جھاں سے بذریعہ خچر سے یا پھر پیدل ملکہ پربت پر پہنچا جاسکتا ہے پہاڑ کی چوٹی کی اونچائی 5220 میٹر ہے اس پہاڑ کی چوٹی کو 1957ءمیں میں پہلی مرتبہ سر کیا گیا تھا حکومت پاکستان اگر اس وادی میں توجہ دے تو یہ وادی جو کہ سوئٹزرلینڈ سے بھی زیادہ خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر سے مالا مال ہے سے سالانہ خطیر زرمبادلہ...
Read moreAt 17390 ft, Malika Parbat (Queen of mountains) is the highest peak in Naran Valley. Looking in southerly direction from lake Saif ul Muluk, the snow clad peak of Malika Parbat appears like a giant. Going up to the base camp is easy but from there on, the climb is technical which only trained mountaineers using proper equipment should undertake. Glaciers and streams flowing from Malika Parbat feed lake...
Read more