The Taj Building in Nowshera is one of the most iconic landmarks of the city, known for its rich historical and architectural value. Built during the British era, this building stands as a reminder of the colonial influence blended with local craftsmanship. Its vintage structure, arched windows, and grand facade speak of a glorious past, making it a center of attraction for history enthusiasts and tourists alike. The building not only holds architectural importance but also reflects the cultural and social heritage of Nowshera.
Over the years, Taj Building has remained a hub of various social and political activities. Locals feel a deep connection to it, as it represents a shared memory of the city’s evolution. It has witnessed many significant events and continues to stand tall as a symbol of pride for the people of Nowshera.
Preserving such historical sites is essential to keep our heritage alive. Buildings like Taj are not just structures made of bricks and mortar; they are living stories from our past. A visit to the Taj Building takes you back in time and offers a unique glimpse into the architectural beauty and historical depth of the region. It truly deserves more recognition and...
Read moreتاج بلڈنگ کا تاریخی پس منظر نوشہرہ کی تاریخی سو سالہ پرانی عمارت تاج بلڈنگ ۱۹۲۰ میں بنائی گئی، یہ تین منزلہ عمارت ہے جو کہ ایک منفرد شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے، اس عمارت میں دلفریب انڈین، رومن اور گوتھک آرکیٹیکچر کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے جو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ ہے اگر باریک بینی سے دیکھا جاے تو اسکی دیواروں کو مختلف اقسام کے پھولدار بیل بوٹوں اور دلکش انگوری تزح کے نقوش سے آراستہ کیا گیا ہے، پشاور یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈنٹ کی راے ہے کہ اس بلڈنگ کی کھڑکیوں اور دروازوں اور چوکھاٹوں کا ڈیزائن، گولای میں بنے پر کشش آرکس اور ان پہ بنے نقوش کی وضع انڈین طرز کی بجاے ان میں رومن اور گوتھک آرکیٹیکچر زیادہ نمایاں، سامنے کی جانب پہلی منزل پہ بنی جھکوتھرا اسٹایل کی بالکونیاں رومن ،کیتھولک طرز آرکیٹکچر کے طرز سے نسبت رکھتی ہیں ، اسکے علاوہ پچھلے حصے کی طرف داخلی دروازہ ہے اور اسکے اوپر بنی بڑی انڈین جھروکا ڈیزائن کی کھڑکی ایک اعلی نمونہ ہے، بلڈنگ کے پچھلی جابب کھلنے والی چھوٹی انڈین طرز کی کھڑکیاں بھیدلفریب انداز کا حسن رکھتی ہیں جہاں ایک بڑا سر سبز لان ہوا کرتا تھا جو کہ دریاے کابل تک تفریح کا باعث تھا ۔ نیز یہ منفرد شاہکار عمارت جس میں رومن ، گوتھک اور انڈین آرکیٹیکچر کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے جس کی وجہ سے تاج بلنڈنگ پورے خطے میں نمایاں اہمیت کی حامل ہے ۔ تاج بلڈنگ جیسی تاریخی عمارت بنانے والی شخصیت کا نام جناب تاج خان (خان بہادر) ولد عبدالحمید خان سکنہ بدرشی ویلج نوشہرہ تھا، آپ کا پیشیہ تجارت تھا اور آپکا شمار بریٹش آرمی کے چند نامی گرامی کٹریکٹرز میں ہوتا تھا، آپ بڑے پیمانے پہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد میں برٹش آرمی کو پانی، خوراک، یونیفارم اور مختلف سہولیات فراہم کرنے کیلیے مقرر تھے۔ انکی عمدہ کارکردگی اور خدمات کے طفیل انہیں خان بہادر کے خطاب سے نوازا گیا۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے امیر ترین معززین میں ہوتا اور جسکی وجہ سے برصغیر پاک و ہند میں بہت عزت وقار حاصل تھا۔ تاج بلڈنگ بنانے کا مقصد تاریخ گوہ لکھتے ہیں، تاج بلنڈنگ بنانے کا مقصد برٹش آرمی کے افسران اور انکی فیملیز کے ساتھ دیرینہ تعلقات قایم رکھنا تھا، اور معزز مہمانوں کی نوشہرہ آمد پہ انکے اسٹینڈرڈ اور مزاج کیمطابق رہائش، اور تفریحی سہولتیں مہیا کرنا تھا۔ ابتدای طور پہ تاج بلڈنگ میں دوسری منزل پہ رہائشی سہولتوں کیساتھ تفریح کو مد نظر رکھتے ہوے عمارت کی بچھلی طرف ایک بڑا سر سبز لان بنایا گیا تھا جو کہ دریاے کابل تک پھیلا ہوا تھا اور ایک پر لطف نظارہ پیش کرتا تھا ، برٹش دور میں جومعزز مہمان نوشہرہ آتے(بریٹش آرمی افسران اور انکی فیملیز) انہیں تاج بلڈنگ جیسی خوبصورت و دلفریب رہائش میں ٹھرایا جاتا اور انکی خدمات کی جاتیں، معزز مہمانوں کی خاطر مدارات کیلیے رات گیے تک اوپن ایریا کے خوبصورت لان میں فنکشنز اور کھانے پینے (نایٹ ڈنر پارٹی ) پروگرام کرواے جاتے تھے۔ تفریح کیلیے بلڈنگ کے اندر موجو بڑے ہال میں بھی تقاریب رکھی جاتیں جس میں رنگ ترنگ کی محفلیں عروج پہ ہوا کرتیں تھیں۔ بڑے ہال میں معزز مہمانوں کا دل لبھانے کیلیے مووی سینیما کا انتظام بھی کیا جاتا تھا ۔ Ref fro 1- Article: Disputed heritage in Nowshera By Dr Ali Jan 2- Taj Hotel a 100 Year Old Regal Building in Nowshera on Sher...
Read moreاگر باریک بینی سے دیکھا جاے تو اسکی دیواروں کو مختلف اقسام کے پھولدار بیل بوٹوں اور دلکش انگوری تزح کے نقوش سے آراستہ کیا گیا ہے، پشاور یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈنٹ کی راے ہے کہ اس بلڈنگ کی کھڑکیوں اور دروازوں اور چوکھاٹوں کا ڈیزائن، گولای میں بنے پر کشش آرکس اور ان پہ بنے نقوش کی وضع انڈین طرز کی بجاے ان میں رومن اور گوتھک آرکیٹیکچر زیادہ نمایاں، سامنے کی جانب پہلی منزل پہ بنی جھکوتھرا اسٹایل کی بالکونیاں رومن ،کیتھولک طرز آرکیٹکچر کے طرز سے نسبت رکھتی ہیں ، اسکے علاوہ پچھلے حصے کی طرف داخلی دروازہ ہے اور اسکے اوپر بنی بڑی انڈین جھروکا ڈیزائن کی کھڑکی ایک اعلی نمونہ ہے، بلڈنگ کے پچھلی جابب کھلنے والی چھوٹی انڈین طرز کی کھڑکیاں بھیدلفریب انداز کا حسن رکھتی ہیں جہاں ایک بڑا سر سبز لان ہوا کرتا تھا جو کہ دریاے کابل تک تفریح کا باعث تھا ۔ نیز یہ منفرد شاہکار عمارت جس میں رومن ، گوتھک اور انڈین آرکیٹیکچر کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے جس کی وجہ سے تاج بلنڈنگ پورے خطے میں نمایاں اہمیت کی حامل ہے ۔ تاج بلڈنگ جیسی تاریخی عمارت بنانے والی شخصیت کا نام جناب تاج خان (خان بہادر) ولد عبدالحمید خان سکنہ بدرشی ویلج نوشہرہ تھا، آپ کا پیشیہ تجارت تھا اور آپکا شمار بریٹش آرمی کے چند نامی گرامی کٹریکٹرز میں ہوتا تھا، آپ بڑےنوشہرہ کی تاریخی سو سالہ پرانی عمارت تاج بلڈنگ ۱۹۲۰ میں بنائی گئی، یہ تین منزلہ عمارت ہے جو کہ ایک منفرد شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے، اس عمارت میں دلفریب انڈین، رومن اور گوتھک آرکیٹیکچر کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے جو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ ہے پیمانے پہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد میں برٹش آرمی کو پانی، خوراک، یونیفارم اور مختلف سہولیات فراہم کرنے کیلیے مقرر تھے۔ انکی عمدہ کارکردگی اور خدمات کے طفیل انہیں خان بہادر کے خطاب سے نوازا گیا۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے امیر ترین معززین میں ہوتا اور جسکی وجہ سے برصغیر پاک و ہند میں بہت عزت وقار حاصل تھا۔ تاج بلڈنگ بنانے کا مقصد تاریخ گوہ لکھتے ہیں، تاج بلنڈنگ بنانے کا مقصد برٹش آرمی کے افسران اور انکی فیملیز کے ساتھ دیرینہ تعلقات قایم رکھنا تھا، اور معزز مہمانوں کی نوشہرہ آمد پہ انکے اسٹینڈرڈ اور مزاج کیمطابق رہائش، اور تفریحی سہولتیں مہیا کرنا تھا۔ ابتدای طور پہ تاج بلڈنگ میں دوسری منزل پہ رہائشی سہولتوں کیساتھ تفریح کو مد نظر رکھتے ہوے عمارت کی بچھلی طرف ایک بڑا سر سبز لان بنایا گیا تھا جو کہ دریاے کابل تک پھیلا ہوا تھا اور ایک پر لطف نظارہ پیش کرتا تھا ، برٹش دور میں جومعزز مہمان نوشہرہ آتے(بریٹش آرمی افسران اور انکی فیملیز) انہیں تاج بلڈنگ جیسی خوبصورت و دلفریب رہائش میں ٹھرایا جاتا اور انکی خدمات کی جاتیں، معزز مہمانوں کی خاطر مدارات کیلیے رات گیے تک اوپن ایریا کے خوبصورت لان میں فنکشنز اور کھانے پینے (نایٹ ڈنر پارٹی ) پروگرام کرواے جاتے تھے۔ تفریح کیلیے بلڈنگ کے اندر موجو بڑے ہال میں بھی تقاریب رکھی جاتیں جس میں رنگ ترنگ کی محفلیں عروج پہ ہوا کرتیں تھیں۔ بڑے ہال میں معزز مہمانوں کا دل لبھانے کیلیے مووی سینیما کا انتظام بھی...
Read more