ﺳﺮﮔﻮﺩﮬﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ 14 ﮐﻠﻮ ﻣﯿﮍ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﭘﺮ ﮐﯿﺮﺍﻧﮧ ﭘﮩﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭼﻨﯿﻮﭦ ﺷﮩﺮ ﺗﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ اور ان میں چھپے نظارے بے مثال حسن سے مالا مال ہیں۔ چھوٹی بڑی پہاڑیوں کے گرد و نواح میں بڑی شان سے کھڑے پھلوں (کینو، مالٹا، موسمبی، فروٹر اور امرود) کے باغات، لہلہاتے کھیت کھلیان، سبزہ، فصلیں اور روایتی انداز میں بَسے گاؤں قدرتی حسن میں اضافے کا باعث ہیں۔
ان پہاڑیوں سے وابستہ دیومالائی قصے کہانیاں ایسے ہیں جو ہر فرد کو انگشت بد نداں کردیں ﺍﻥ ﭘﮩﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﯾﻢ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻣﻨﺪﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻨﻮ ﻣﺎﻥ ﺟﯽ ﮐﺎ ﻣﻨﺪﺭ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﻘﺎﻡ ﺳﯿﺎﺣﺖ ﺳﮯ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻨﺪﻭ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺳﯿﺘﺎ ﮐﻮ ﺭﺍﻭﻥ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮨﻨﻮ ﻣﺎﻥ ﺟﯽ ﺳﯿﺘﺎ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻘﻮﻝ ﮨﻨﺪﻭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﮨﻨﻮ ﻣﺎﻥ ﺟﯽ ﮐﻮﮦِ ﮨﻤﺎﻟﯿﮧ ﺳﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﺍُﭨﮭﺎ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮﻻ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻨﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﺎﮌ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﺸﮑﯽ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﺎﮌ ﻟﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺟﻮ ﭘﮩﺎﮌﯾﺎﮞ ﮔﺮﺗﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮐﯿﺮﺍﻧﮧ ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯾﺎﮞ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ۔
ﮨﻨﺪﺅ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﭘﮩﺎﮌﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮨﻨﺪﻭﺅﮞ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍِﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻨﺪﻭ ﺷﮩﺰﺍﺭﮮ ﺑﺮﺗﺮﯼ ﮨﺮﯼ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺑﮯﮔﺎﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮒ ﻃﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮨﻮ ﮐﺮﺍﭘﻨﯽ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺎﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺮﺍﻧﮧ ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﯽ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺍِﺳﯽ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺳﺮﮔﻮﺩﮬﺎ ﮐﮯ ﻧﺰﯾﮏ ﺗﺮﯾﻦ ﺑﻠﻨﺪ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭘﮧ ﭘﺎﮎ ﻓﻀﺎﯾﺌﮧ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺭﯾﮉﺍﺭ ﻧﺼﺐ ﮨﮯ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہی پہاڑیوں میں واقع مصحف ایئربیس سے اڑان بھر کر ایم ایم عالم جیسے ہواباز شاہینوں نے بھارتی ایئرفورس کے ہوائی حملے کو نہ صرف بری طرح ناکام بنایا بلکہ انہیں ایسا سبق سکھایا کہ انہوں نے دوبارہ پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی غلطی نہیں دہرائی۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ کرانہ سلسلے کی پہاڑیاں بتدریج ختم ہوتی جارہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اسٹون کرشنگ کا نہ تھمنے والا سلسلہ ہے جسکو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ہے کہ آنے والی چند دہائیوں میں کرانہ پہاڑیاں اپنی بقا کی جنگ مکمل...
Read moreKirana hills are situated in vicinity of Sargodha towards south. It is a broken chain of dry mountains and a big stone crushing industry use stone of these mountains. Crush of these mountains is of the best quality and used for construction of buildings and roads. Most complete mountains have been grinded so far from roots by the hands of crushing industry and now the roots of crushed mountains are giving look of...
Read moreکوہ کرانہ بار کرانہ ہلز جن کو کڑانہ ہلز بھی کہتے ہیں یہ پنجاب کے میدان میں چج دوآبہ چناب جہلم کے درمیان پھیلا ھوا ہے جس میں چار اضلاح پھیلے ہیں گجرات منڈی بہاولدین سرگودھا چنیوٹ جھنگ کا کچھ علاقہ سرگودھا شہر سے چند کلومیٹر مشرق میں یہ پہاڑیاں پھیلی ھوئی ہیں ویسے یہ سلسلہ چنیوٹ ربوہ تک جاتا ہے کہیں غائب ھو جاتا ہے کہیں سامنے اہ جاتا ہے اس میں مشہور کڑانہ ٹاپ سرگودھا کے سامنے کھڑا ہے یہ 1650 فٹ سے زیادہ بلند ہے اس پر پاکستان آرمی کی انسٹالیشن ہیں سرگودھا کے دفاع کے لیے چرنالی ہلز ڈوہکڑی ہلز شاہین اباد ہلز ربوہ ہلز چنیوٹ ہلز شامل ہیں چھ سو سے باراں سو فٹ تک ہیں یہ بھی بنیادی طور پر یہ ساٹھ کروڑ سال پہلے 60 کروڑ سال پورانے آتش فشاں کے عمل سے بننے والے پہاڑ ہیں ان میں لوہا یورنیم اور گولڈ کے زرات پاے جاتے ہیں وقت کے ساتھ موسموں بارشوں ہواوں نے ان کی ہیت بدل دی پھر ییاں بجری بنانے کے لیے سینکڑوں سٹون کریشر لگ گے یوں بہت سے پہاڑ تو ویسے ہی کاٹ کر...
Read more